Friday, December 30, 2011

Four Poem in For Languages by Yousuf Hassan


ایک دوپہر

قدم قدم تنہائی میں
صحرا کی پہنائی میں
پیلا زرد سکوت سماں
دشت کا آْئینہ ہے

एक दोपहर

कदम कदम तन्हाई में
जंगल की पहनाई में
पीला ज़र्द स्कूत समां
दश्त का आईना है

A NOON

Step by step
in solitude
of the desert's profound depth
the pale-yellow
Silent spectacle around
Is a true mirror
of terror!


Ekti Dupur

Ek pa ek pa koray
E morubhoomir gobhir ekakitye doobay jaoa
Norom Holuder Nishtobdho Drissho
Atonker Ashol Protifolon


***

استفسار

چھاؤں کا چھلاوا بھی
دھوپ کی خباثت ہے
لہر کا بلاوا بھی
ریت کی سیاست ہے
خشک ریگزاروں میں
تیری کیا فراست ہے

प्रश्न

छाउं का छलावे भी
धूप की खबासत है
लहर का बलावा भी
रेत की सिआसत है
शुष्क रीगज़ारों में
तेरी किया फ़्रासत है

QUESTION

The shadowy Elfin
is also a villainy
of sunshine
The call of a tidalwave
is another clever strategy of sand
What do you fathom
is the vast dy desert?

Proshno

Chhayapori roudreri ek chholona
Jowar bha(n)tar daak, baalir ek chotur niti
Morubhoomir atawl gobhirey, tawl ki melay?

***

وصال

جاگا سپنا جیون کا
برسا بادال ساوان کا
پیاس کی ماری دھرتی پر
سُدھ بُدھ ہاری دھرتی پر
تن من کے اسرار کھلے
اپنے بھید ہزار کھُلے

वसाल

जागा सपना जीवन का
बरसा बादल सावन का
प्यास की मारी धरती पर
सुध बुध हारी धरती पर
तन मन के इसरार खुले
अपने भेद हजार खुले

UNION

The dream of life
came to an end
to its fill
The thirsty Earth
confounded and baffled
by the long drought,
had lost its wit.
Presently,
the mystries of Body
and Soul
and a thousand other secrets
of its own
were revealed to it.

Milon

Shawpner sheshey borshar jawlbhora megh
Moosholdharay jamon bhashay deergho khawray trishnarto, bibhranto prithibikay,
Theek temoni ekhon shorir o moner rohossho aar prithibir nijer hajar gopon kawtha,
Tar shamney ujarrh korey day nijeder

***

رشتہ

سرسبز شاخوں میں
پھر جو کُوک اُٹھتی ہے
اک برہ جلی کوئل
کون ہوگیا بے کُل
کس کی ہوک اٹھی ہے آہنی


रिश्ता

सरसबज़ शाखाओं में
फिर जो कूक उठती है
इक बरह जली कोएल
कौन हो गया बे कुल
किसकी हूक उठी है आहनी

RELATIONSHIP

Smouldering in a separation,
a Koel has coo-cooed
behind lush green
leafy branches
of some tree.
Simultaneously,
a ground rises in agony
who is so restless
behind the iron bars?

Shawmpawrko

Biccheder goonay jwoley, jhawlmawley shoboojer patabhawra daaley boshey kuhu shawrawb hoy baarbaar,
Tawkhoni ek tibro jawntronar gongani,
Temoni ghawnoghawno,
Garoder arrhalay lookono, adhoirjo karoor nisshashey

***

Thanks to Namita Gupta for Bangli Translation

Thursday, June 24, 2010


محنت کش بچے.... معاش کی بھٹی کا ایندھن

چائلڈ لیبر ڈے کے حوالے سے فیچر



بچے کسی بھی قوم کا مستقبل اور سرمایہ ہوتے ہیں۔معصوم بچے جو کسی بھی سماج میں ایک پھول کی حیثیت رکھتے ہیں ،جو معاشرے کی ایک انتہائی معصوم اور حساس پرت ہوتے ہیں ،جن کی موجودگی سے گھروں میں رونق ہوتی ہے اور جنہیں پڑھ لکھ کر ملک کے مستقبل کا معمار بننا ہوتا ہے لیکن جب حالات سے مجبور ہو کران بچوں کو ہنسنے کھیلنے کے دنوں میں محنت مشقت پر مجبور کر دیا جائے تو یقیناً اس معاشرے کیلئے ایک المیہ وجود پا رہا ہوتا ہے۔ یہ بے آسرا وبے یارومدد گار بچے آج اس نظام میں اپنا پیٹ پالنے اور اپنی بھوک مٹانے کے لئے سڑکوں پر اپنا رزق تلاش کرتے نظر آتے ہیں اور اُسی رزق کو تلاش کرتے کرتے کب وہ اس سرمائے کی منڈی میں داخل ہوجاتے ہیں اور چائلڈ لیبر کا شکار ہوجاتے ہیں خود اُن معصوم بچوں کو بھی پتہ نہیں چلتا۔ یہ المیہ ہر گزرتے دن کے ساتھ زخم کی صورت اختیار کرتا جاتا ہے اور پھر ناسور بن کر سماج کا چہرہ داغ دار اور بدصورت کردیتا ہے۔ معاشی بدحالی، بنیادی سہولیات سے محرومی، استحصال، بے روزگاری، غربت اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم نے ملک میں اس المیے کو جنم دے رکھا ہے جو بڑھتے بڑھتے ناسور کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ پوری دنیا اور خاص طور پر تیسری دنیا کے ممالک میںبچوں سے محنت مشقت کروانے کی روایت موجود ہے اور اس کے سدباب کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان میں چائلڈ لیبر ایک سماجی ضرورت بن چکی ہے۔ امیر کے امیر تر اور غریب کے غریب تر ہونے پر قابو نہ پائے جانے کی وجہ سے اب لوگ اس کے سوا کوئی راہ نہیں پاتے کہ وہ بچوں کو ابتدا سے ہی کام پر لگا دیں تاکہ ضروریات زندگی پوری ہوتی رہیں۔ سکول جانے کی عمر کے بچے دکانوں، ہوٹلوں، بس اڈوں، ورکشاپوں اور دیگر ایسی جگہوں پر ملازمت کرنے کے علاوہ محنت مزدوری کرنے پر بھی مجبور ہیں۔ قوم کے مستقبل کا ایک بڑا حصہ اپنے بچپن سے محروم ہو رہا ہے۔ جو کہ اس قوم کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔
 
’چائلڈ لیبر‘ سے مراد نوعمر اور کم سن بچوں سے محنت مشقت اور ملازمت کرانا ہے۔ یعنی بچے کو اس کے حق تعلیم و تفریح سے دور کر کے اس کو چھوٹی عمر میں ہی کام پر لگا دیا جائے۔ چائلڈ لیبر بچوں کے مسائل میں اہم ترین مسئلہ ہے۔ تیسری دنیا کے ممالک میں چائلڈ لیبر کی شرح بہت زیادہ ہے اور عالمی سطح پر چائلڈ لیبر کے اعداد و شمار بہت تشویشناک ہیں۔ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن(ILO) نے اس بارے میں اپنی رپورٹ ان الفاظ میں مرتب کی ہے ”ایک اندازے کے مطابق چوبیس کروڑ ساٹھ لاکھ بچے چائلڈ لیبر کا شکار ہیں۔ پھر ان بچوں میں سے تقریبا تین چوتھائی (سترہ کروڑ دس لاکھ) سخت مشقت والے کام کرتے ہیں جیسے کہ کانوں میں کام کرنا، کیمیکلز کے ساتھ کام کرنا اور کھیتی باڑی نیز خطرناک قسم کی مشینری کے ساتھ کام کرنا۔
چائلڈ لیبر کی تشریح اقوام متحدہ کا ادارہ انٹرنیشنل چلڈرنز ایمرجنسی فنڈ کچھ ان لفظوں میں کرتا ہے”وہ بچے جن کی عمریں اٹھارہ سال سے کم ہیں اور وہ کسی بھی قسم کی ملازمت کرنے پر مجبور ہیں وہ تمام بچے چائلڈ لیبرمیں شامل ہیں“۔ اس قسم کے بچے آج پوری دنیا میں ہمیں مختلف طریقوں سے اپنا پیٹ پالتے نظر آتے ہیں اگر ہم چائلڈ لیبر کا عالمی سطح پر جائزہ لیں تو لاطینی امریکہ ،افریقہ اور ایشیا میں کروڑوں بچے چائلڈ لیبر کا شکارنظر آتے ہیں،کچھ لوگوں کے مطابق ایشیا کے کئی ممالک کے اندر ایک سے دس افرادی قوت چائلڈ لیبر پر مشتمل ہے ،جن میں بھارت میں دس سے چودہ سال کی عمر کے بچے جو مختلف قسم کی محنت مزدوریاںکرکے ایک دن کی روٹی کھا تے ہیں اُن کی تعداد تقریبا چار کروڑ چالیس لاکھ ہے ، پاکستان میں ایسے بچوں کی تعد اد تقریبا اسی لاکھ سے ایک کروڑ تک ہے ،بنگلہ دیش میں اسی لاکھ سے ایک کروڑ بیس لاکھ تک ،برازیل میں ستر لاکھ جبکہ ایک کروڑ بیس لاکھ تک بچے نائجیریا میں محنت و مشقت کرکے روزانہ اپنا پیٹ پالتے ہیں اور زندہ رہنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ چائلڈلیبر کا افریقی ممالک میں تناسب سب سے زیادہ ہے ۔ ہیومین رائٹس واچ کی ایک رپورٹ کے مطابق ” برکینا فاسو، چاڈ، ٹوگو، سیرالیون، نیجر، گھانا، کوسٹاریکا، سنٹرل افریقن ریپبلک میں پچاس فیصد(%50) سے زیادہ بچے چائلڈلیبر کا شکار ہیں۔ ان سب ممالک میں سے نائیجر میں یہ حد چھیاسٹھ فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

چائلڈ لیبر کے بہت سے اسباب ہیں جن کے وجہ سے والدین اپنی کم سن اولاد کو کام کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ پاکستان میں عام طور وہ والدین جو بچوں کی تعلیم کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتے یا کسی وجہ سے خود کمانے کے قابل نہیں رہتے یا ان کی کمائی کم ہوتی ہے مگر زیادہ افراد کی کفالت ذمہ ہوتی ہے تو ایسے میں یہ والدین اپنے بچوں کو چھوٹی عمر میں ہی کام پر لگا دیتے ہیں۔ بعض اوقات والدین کی تعلیم اور شعور میں کمی بھی اس مسئلے کا سبب بنتی ہے۔ بعض لوگوں کا نقطہ نظر یہ ہوتا ہے کہ تعلیم کا مقصد رزق کمانا ہوتا ہے۔ پس یہ والدین بچوں کو بچپن سے ہی کسی فیکٹری، کسی موٹر مکینک یا کسی اور ہنرمند کے پاس بطور شاگرد چھوڑ دیتے ہیں تاکہ بچہ جلد روزگار کمانے کے قابل ہو سکے۔ چائلڈ لیبر عام طور پر غریب اور پسماندہ ممالک میں ہے۔ حکومتی سطح پر ان مسئلے کی جانب عدم دلچسپی اس مسئلے کا تیزی سے بڑھنے کا سبب بن رہی ہے۔
 
 12 جون کو محنت کش بچوںعالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کا تقاضا ہے کہ حکومت چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لئے اقدامات کرے اور بچوں کے حقوق کے حوالے سے اقوام متحدہ کے کنونشن پر عمل درآمد کیا جائے۔ اس کنونشن کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 20نومبر1989ءکو منظور کیا تھا۔ پاکستان 1990ءمیں اس کنونشن کا حصہ بنا تھا۔ اس کے آرٹیکل 32کے مطابق ”ریاست بچوں کے حقوق کا تحفظ فراہم کرے گی اور انہیں ایسا کام کرنے سے روکا جائے گا جو ان کی تعلیمی معمولات کو متاثر کرے یا وہ بچے کی جسمانی اور ذہنی صحت کے لئے مضر ہو۔“ 2001-02ءکے دوران حکومت نے چائلڈ لیبر کے حوالے سے تمام سٹیک ہولڈرز (لیبر ڈیپارٹمنٹ، ٹریڈ یونینز، مالکان اور غیر سرکاری تنظیموں) سے مشاورت کی تھی جس سے یہ اندازہ لگانا مقصود تھا کہ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے کنونشن 182کے تحت بچوں کے لئے کون سے پیشے یا کام نامناسب ہیں۔ اس مشاورت سے ایک قومی اتفاق رائے پیدا ہوا اور درج ذیل پیشوں اور کاموں کی فہرست تیار ہوئی جو بچوں کی جسمانی اور ذہنی صحت کے لئے بہتر نہیں ہیں ۔ (1کان کنی(2 طاقت ورمشینوں پر کام کرنا (3بجلی کی ایسی تاروں پر کام کرنا جن میں بچاس واٹ سے زیادہ کرنٹ ہو (4چمڑے کی صفائی سے متعلقہ تمام کام (5کیڑے مار ادویات کو ملایا اور ان کا استعمال (6شیشہ سازی (7کیمیکل انڈسٹری (8کوئلے کی صنعت (9 سیمنٹ انڈسٹری (10آتش بازی کے سامان کی تیاری اور فروخت (11ایسی جگہ پر کام کرنا جہاں سیلنڈروں میں سی این جی یا ایل پی جی بھری جاتی ہے (12شیشے اور دھات کو پگھلانے والی بھٹیاں (13کپڑے کو رنگنے، پرنٹ کرنے اور پیکنگ کا عمل (14سیوریج پائپ لائنوں اور اس سے منسلک کام (15پتھروں کو توڑنے کا عمل(16 سامان اٹھانا یا ٹرکوں پر لوڈ کرنا(پندرہ کلوگرام سے زیادہ) (17صبح دس سے شام آٹھ بجے تک ہوٹلوں میں کام کرنا(18 قالین بافی (19زمین سے دو میٹر کی بلندی پر کوئی بھی کام کرنا(20 کوڑا کرکٹ سے پلاسٹک، کاغذ یا ہسپتال سے فاضل سامان چننا (21تمباکو کی صنعت سے وابستگی (22ماہی گیری (23بھیڑوں کی کھالوں سے اون کا حصول کرنا (24آلات جراحی کی صنعت (25بحری جہاروں کو توڑنا اور (26چوڑیاں بنانے والی بھٹیاں اس فہرست میں کئی غیر رسمی پیشے شامل نہیں ہیں جن میں بچوں کی ایک بڑی تعداد کے بنیادی حقوق پامال ہو رہے ہیں۔ ان میں زراعت، بھٹہ خشت، گھریلو ملازمت، گھریلو صنعتیں، دوکانوں اور ورکشاپوں پر کام کرنا وغیرہ شامل ہیں۔
 
پاکستان میں بچوں کی مزدوری کا قانون بنے ایک دہائی سے زیادہ کا عرصہ بیت چکا ہے لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا اور خود اس قانون میں بھی نئے عالمی کنوینشنز کے مطابق بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ مزدور بچوں پر آخری سروے 1996ءمیں ہوا تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ ملک میں 33 لاکھ مزدور بچے ہیں۔ جبکہ یہ صرف باقاعدہ کام کاج کی جگہوں پر کام کرنے والوں کی تعداد ہے۔ مزدور بچوں کا اسی فیصد تو غیر رسمی شعبہ میں ہیں۔ جیسے گھروں میں اورکھیتوں میں کام کرنے والے بچے جن کا کوئی سروے دستیاب نہیں ہے۔
 
سماجی بہبود کے اعدادوشمار کے مطابق باقاعدہ شعبوں میں کام کرنے والے مزدور بچوں کی تعداد چالیس لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے اور اس میں سے بیس لاکھ مزدور بچے پنجاب میں ہیں۔ پاکستان میں بچوں کی مزدوری سے متعلق جو قوانین ہیں ان میں بچے کی تعریف میں ایسے نو عمر لوگ ہیں جن کی عمر ابھی پوری چودہ سال نہیں ہوئی جبکہ عالمی کنوینشنز میں یہ عمر پندرہ سال ہے۔ ملک میں پانچ سے پندرہ سال کی عمر کے دو کروڑ بیس لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں اور یہ سب بچے کسی وقت بھی نو عمر مزدور بن سکتے ہیں۔
 
جراحی کے آلات بنانے کے کارخانوں میں ہزاروں بچے مزدوری کرتے ہیں اور ملک ان کی محنت سے اربوں روپے کا زرمبادلہ کماتا ہے یہ بچے ریتی پر دھات کے گھسنے سے نکلنے والی دھاتی دھول کو بھی سانس کے ساتھ اندر لے کر جاتے ہیں جو ان کے کام کا بہت خطرناک پہلو ہے اسی طرح ڈینٹنگ پینٹنگ اور فرنیچر پالش کرنے والے بچوں کے پھیپھڑے بھی رنگ اور پالش میں موجود مختلف کیمیکلز سے متاثر ہوتے ہیں اور ٹی بی کا باعث بنتے ہیں۔ کم عمر بچوں کا اپنے والدین سے دور مستریوں کی نگرانی میں کام کرنا بھی بذات خود کئی مشکلات کا باعث بنتا ہے کیونکہ ان ورکشاپوں کے مالکان کا ان بچوں سے کوئی براہ راست رشتہ نہیں ہوتا۔
 
ملک بھر میں بچے کوڑا اٹھانے کا کام بھی کرتے ہیں جس میں وہ ہسپتالوں کا کوڑا بھی اٹھاتے ہیں۔ جس میں خطرناک بیماریوں میں استعمال ہونے والی پٹیاں، ٹیکے وغیرہ بھی ہوتے ہیں۔ بچوں کی مزدوری کے پیچھے ایک بڑی اہم وجہ غربت ہے اور بہت سے والدین اگر پیسوں کے لئے نہیں تو صرف اس لئے بچوں کو کام پر بھیجنا شروع کر دیتے ہیں کہ وہ کوئی ہنر سیکھے گا کیونکہ حکومتی نظام تعلیم میں مستری، بڑھئی یا ٹیکنیشن اور اس طرح کے دوسرے ہنر نہیں سکھائے جاتے ہیں اور نہ ہی ایسے ہنر سکھانے والے ادارے موجود ہیں۔ تاہم غربت کے ساتھ کئی اور عوامل بھی اہم ہیں۔ مثلاّ قالین بافی کے صنعت میں بچوں کی بہبود کے لیے آئی ایل او کے منصوبہ پر کام کرنے والے اہلکار کے مطابق قالین بافی میں صرف بائیس فیصد بچے خاندان کی غربت کی وجہ سے تھے جبکہ علم کی طرف رغبت دلانے پر پینتالیس فیصد بچوں نے قالین بانی کو ہمیشہ کیلئے چھوڑ کر سکولوں کا رخ کر لیا۔ تعلیم اور صحت کی بہتر سہولیات بچوں کی مزدوری کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں اور بنیادی تعلیم سے بھی مزدور بچوں کے حالات میں بہتری آسکتی ہے۔
 
متحدہ عرب امارات کی حکومت کی جانب سے 2005ءمیں اونٹ ریس میں بچوں کے استعمال پر پابندی لگائے جانے کے بعد وہاں سے تقریباّ سات سو بچے واپس پاکستان بھیجے گئے۔ گزشتہ اڑھائی سال کے دوران بچوں کی سمگلنگ میں ملوث چھ سو ملزمان کیخلاف مقدمات درج ہوئے جن میں سے صرف چونسٹھ افراد کو سزائیں سنائی گئیں۔ 2002ءمیں ایک آرڈیننس بھی جاری کیا گیا تھا جس کے تحت اس کاروبار میں ملوث افراد کو چودہ سال تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔ پاکستان سے بیرونی ممالک کو بچوں کی سمگلنگ 1989ءمیں شروع ہوئی اور ہنوز یہ دھندہ بڑے پیمانے پر جاری ہے جس کی روک تھام کیلئے حکومت کو مزید سخت اقدامات کرنا ہوں گے۔
 
انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق پوری دنیا میں بچوں سے مزدوری لینے کے کام میں نمایاں کمی ہوئی ہے اور امید ہے کہ یہ غیر قانونی کام 2015ءتک دنیا کے تمام ممالک میں ختم ہو جائے گا۔ آئی ایل او کے مطابق پاکستان میں مزدور بچوں کی تعداد میں کمی ہوئی ہے۔
 
ملک میں بڑھتے ہوئے تعلیمی اخراجات اور دن بدن مہنگائی میں اضافے کے پیش نظر خدشہ ہے کہ مملکت خداداد میں بجائے چائلڈلیبر کم ہونے کے مزید بڑھے گی۔ لہٰذا چائلڈلیبر کے خاتمے کیلئے صرف حکومتی سطح پرہی اقدامات کو کافی نہ سمجھا جائے بلکہ اس کے خاتمہ کیلئے معاشرہ کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا اور غربت کے ہاتھوں مجبور ہو کر مزدوری کرنے والے بچوں کو مفت تعلیم، علاج معالجہ اور انہیں کفالت فراہم کرنے کے ذرائع مہیا کرنا ہوں گے اس کے علاوہ کروڑوں کے فنڈ خرچ کرنے والی این جی اوز کو بھی چائلڈلیبر اور اس کے اسباب کے خاتمہ کیلئے ٹھوس بنیادوں پر اقدامات کرنا ہوں گے۔

بچوں کے حقوق سے متعلق ایک غیر سرکاری تنظیم سپارک نے سال 2008ءمیں پاکستان میں بچوں کی حالت پر ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں بچوں پر تشدد ، صحت و تعلیم ، اندرون ملک نقل مکانی ،بچوں سے مشقت ،بچوں لیے انصاف اور میڈیا کے ذریعے تشدد کو زیر بحث لایا گیا ہے ۔ یہ رپورٹ بتاتی ہے کہ پاکستان میں سال 2008ءمیں چائلڈ لیبر و ٹریفکنگ ، بچوں پر جنسی اور جسمانی تشدد ، قتل ، اغواءاور خودکشی کے مجموعی طور پر 6780 واقعات رپورٹ کیے گئے جن میں 4251 لڑکے اور 2529 لڑکیاں شامل ہیں ۔ تشدد کے واقعات کے حوالے سے صوبہ پنجاب سر فہرست رہا جہاں یہ تعداد 3772 تھی ۔ سندھ 2412، سرحد 498 اور سب سے کم واقعات بلوچستان میں پیش آئے جہاں یہ تعداد 98 رہی ۔

اس دنیا میں آنے والے ہر بچے کا یہ بنیادی حق ہے کہ وہ بچپن اور لڑکپن کی لاپرواہ زندگی اور کھیل کود کی لذتوں سے بھرپور انداز میں لطف اندوز ہو۔بغیر کسی فکر وفاقہ کے چین کی نیند سوئے اور سکون کے ساتھ خوشگوار انداز میں زندگی گزارے۔اس کے ساتھ ہی حصول تعلیم بھی اس کا بنیادی حق ہے کہ اس حق کی بناءپر ہی وہ اپنا مستقبل تابناک بنا سکتا ہے۔ کمسن بچوں کو ان کے ان بنیادی حقوق سے محروم رکھنا اخلاقاً اور قانوناً جرم ہے۔ حکومتی اداروں اور سول سوسائٹی کے ساتھ عام لوگوں کو بھی چاہئے کہ جہاں تک ممکن ہو سکے چائلڈ لیبر کی حوصلہ شکنی کی جائے تاکہ آنے والے وقت میں وہ بچے جو اس قوم کے معمار ہیں ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔ 

Wednesday, June 2, 2010

علامتی فن مصوری کا منفرد انداز



علامتی فن مصوری کا منفرد انداز
فرانس کے عظیم مصور اور مجسمہ ساز سلواڈور ڈالی کی داستان حیات

سخت گرمیوں کے دن تھے اور ایک نوجوان فنکار اپنے کمرے میں رنگوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ اس کی بیوی شاید گھر پر نہیں تھی۔ دوپہر کا کھانا اس کے سامنے پڑا ہوا تھا جو اس نے آدھا کھانے کے بعد ادھورا چھوڑ دیا تھا۔ اس نے دیکھا کہ پنیر گرمی کی شدت سے پگھل پگھل کر نیچے کر رہی ہے۔ اس منظر نے اس کے ذہن میں ایک کہرام پیدا کر دیا۔ اس خیال کو اس نے کینویس پر مصور کرنے میں ذرا تامل نہ کیا۔ وہ اس وقت ایک لینڈ سکیپ بنا رہا تھا۔ چٹانوں اور درختوں کے پس منظر میں اس نے برش چلانا شروع کر دیا۔ اور پگھتی ہوئی گھڑیاں بنا ڈالی۔ اس نوجوان مصور کو آج آرٹ میں سکواڈور ڈالی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور اس کی یہ پینٹنگ ٴدی پرزسٹنس آف میمریٴ کے نام سے مشہور ہے۔ سلواڈور ڈالی ناصرف ایک مصور تھا بلکہ اس نے آرٹ کے دیگر شعبوں فلم، تھیٹر، فوٹوگرافی اور ڈیزائننگ میں بھی نئی تاریخ رقم کی تھی۔

سلواڈور ڈالی 11مئی 1904ئ کو سپین میں فرانسیسی سرحد کے قریب واقع قصبے فگیورز میں پیدا ہوا۔ اس کے والد درمیانے طبقے سے تعلق رکھنے والے ایک وکیل تھے۔ سلواڈور ڈالی کی پیدائش سے ایک سال قبل اس کے ایک بھائی کا دو برس کی عمر میں انتقال ہو گیا تھا، اس کا نام بھی سلوڈور ڈالی تھا۔ اس لئے اس وکیل کے ہاں دوسرے بچے کی پیدائش ہوئی تو اس کا نام بھی سلواڈور ڈالی رکھا گیا۔ سلواڈور جب پانچ برس کی عمر کا ہوا تو وہ اپنے والدین کے ہمراہ اپنے بھائی کی قبر پر گیا جہاں اس کے والدین نے اسے بتایا کہ وہ اس قبر میں لیٹے ہوئے بچے کا دوسرا جنم ہے۔   سلواڈور ڈالی کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ٴٴہم دونوں بھائی پانی کے دوقطروں کی مانند تھے لیکن ہمارا عکس جدا جدا تھا۔ وہ شاید میری ذات کا پہلا وجود تھاٴٴ۔ سلواڈور ڈا لی نے ابتدائی تعلیم کے ساتھ ساتھ ڈرائینگ سکول میں تربیت بھی حاصل کی۔ 1917ئ میں پہلی بار اس کے والد نے شہر کے میونسپل تھیٹر میں سلواڈور ڈالی کی چارکول سے بنائی ہوئی تصاویر کی نمائش کا اہتمام کیا۔  سلواڈور ڈالی کی عمر سولہ برس ہوئی تو اس کی والدہ کینسر کے مرض سے انتقال کر گئیں۔ اس کی والدہ کی موت نے اس پر ذہن پر خاصا گہرا اثر ڈالا۔ اس کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ

 ٴٴیہ میری زندگی کا سب سے المناک لمحہ تھا۔ میں ان کی پوجا کیا کرتا تھا۔ ان کی موت کی صورت میں مجھے جو نقصان پہنچا ہے میں اس کی تلافی نہیں کرسکا۔ٴ



انیس سو بائیس میں سلواڈور ڈالی نے مڈرڈ کا رخ کیا اور سکول آف فائن آرٹس میں داخلہ لیا۔ اس سکول میں اس نے اپنے ظاہری حالت اور ملبوسات کے انتخاب کے باعث جلد ہی شہرت اختیار کر لی۔ لیکن اس کو صحیح معنوں میں شہرت ٴکیوب ازمٴ تحریک میں شامل ہونے سے ملی۔ فرانس سے جاری ہونے والی یہ تحریک  ابھی تک یورپ میں پروان نہیں چڑھ سکی تھی اور مڈرڈ میں اس تحریک سے کوئی بھی منسلک نہیں تھا۔ابتدائی دور میں سلواڈور ڈالی بھی اس حوالے سے زیادہ معلومات نہیں رکھتا تھا۔ 1924ئ تک وہ عوام کی توجہ کا مرکز نہیں بنا ہوا تھا جب اس نے ایک کتاب کے لیے اپنی خدمات سرانجام دیں۔ یہ کتاب اس کے ایک ہم جماعت شاعر دوست کی تھی جس کا اٹائٹل اس نے تخلیق کیا تھا۔  ٴکیوب ازمٴ کے علاوہ سلواڈور ڈالی نے ٴڈاڈا ازمٴ کی تحریک میں بھی کچھ تجربات کئے۔ ہاسٹل میں قیام کے دوران اس کی دوستی کئی پیپن بیلو، لیوس بنیوئل جیسے مصوروں اور فیڈریکو گارشیا لورکا کے ساتھ ہو گئی۔ 1926ئ میں اس سالانہ امتحانات سے قبل اسے اکیڈمی سے نکال دیا گیا کیونکہ اس نے موقف اختیار کیا تھا کہ اس اکیڈمی میں کوئی بھی استاد کے پایہ کو چھو نہیں سکتا۔ اسی برس اس نے اپنی مشہور پینٹنگ ٴباسکٹ آف بریڈٴ کو کینوس پر پینٹ کیا۔ اکیڈمی سے خارج ہونے کے بعد اس نوجوان مصور پیرس کا رخ اختیار کیا جہاں اس نے پابلو پکاسو کے ساتھ ملاقات کی۔ حیرت کی بات یہ کہ پکاسو سے ملاقات سے پہلے ہی اس کی شہرت اس تک پہنچ چکی تھی۔ پکاسو نے ڈالی کے فن کو بے حد سراہا اور اس نے منفرد تخلیقی انداز کو پسند کیا۔ سلواڈور ڈالی کی بنائی ہوئی پینٹنگ میں ہمیں پابلو پکاسو کی بھی جھلک نظر آتی ہے۔ باپلو پکاسو کے علاوہ سلواڈور ڈالی رافیل، بروزینو، ویرمیز  اور فرانسسکو زربرن کے فن سے بھی بے حد متاثر تھا۔ اس نے اپنے ماڈرن اور کلاسیکی دونوں تکنیکوں کو بروئے کار لایا۔اس دور میں اس کی مصوری کی نمائشوں کے بعد فن مصوری کے حوالے سے نئے بحث و مباحثوں کا آغاز ہوجاتا تھا۔ اسی دور میں اس نے اپنی مونچھوں کا انداز میں تبدیل کر لیا۔ جو اس کا ٹریڈ مارک بن گیا اور بعدازاں یہ انداز اس نے ساری عمر تبدیل نہیں کیا۔



 انیس سو انتیس(1929)میں سلواڈور ڈالی نے ٴسریلسٹٴ تحریک سے وابستہ فلم ڈائریکٹر لیوس بنوئل کے ساتھ مل کے ایک شارٹ فلم بنائی۔ جس میں اس کا بنیادی کام فلم کی کہانی لکھنا تھا۔ ڈالی نے فلم میں اداکاری کی خواہش کا اظہار بھی کیا لیکن وہ اداکاری نہیں کر سکا۔ اگست1929ئ میں ا سکی ملاقات علینا ایوانووا دیاکونوا کے ساتھ ہوئی۔ اس کا تعلق روس سے تھا اور اس سے عمر میں گیا سال بڑی تھی۔ علیناکی سریلسٹ شاعر پال الورڈ کے ساتھ شادی ہو چکی تھی۔علینا گالا کے نام سے جانی پہچانی جاتی تھی۔انہوں نے 1929ئ سے ایک ساتھ رہنا شروع کر دیا اور1934ئ میں شادی کر لی تھی۔ اس کے کچھ ہی عرصہ بعد ڈالی نے باقاعدہ طور پر سریلسٹ تحریک میں شمولیت کا اعلان کر دیا تھا۔ اس عرصہ میں سریلسٹ تحریک سے منسلک بہت سے فنکاروں نے بائین بازو کی سیاست میں حصہ لینا شروع کر دیا۔ کیونکہ ان کا خیال تھا کہ سیاست کا تعلق آرٹ سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ سریلسٹ تحریک کے روح رواں آندرے بریٹن نے ایک مرتبہ سلواڈور پر اعتراض کیا اور کہا کہ تمہارا رویہ ہٹلر کے اصولوں کی پیروی کر رہا ہے جس پر سلواڈور ڈالی کا کہنا تھا کہ ٴٴمیں ایسا جان بوجھ کر کرتا ہوں اور نہ انجانے میںٴٴ اس کے اس رویے پر اس کے خلاف احتجاج کیا گیا اور اسے سریلسٹ تحریک سے خارج کر دیا گیا۔ سلواڈور ڈالی کا اس بارے میں کہنا تھا کہ ٴٴمیں بذات خود سریل ازم ٴ ہوںٴٴ۔ 1940ئ میں یورپ میں جب دوسری جنگ عظیم کے باعث حالات کشیدہ ہوئے تو سلواڈور ڈالی اور گالا نے امریکہ کا رخ اختیار کر لیا۔ امریکہ میں انہوں نے آٹھ برس قیام کیا۔ اس قیام کے دوران ڈالی نے کئی فلموں کی کہانیاں بھی لکھی۔
سلواڈور ڈالی کے فن کا اہم عنصر علامتیں ہیں۔ اس نے اپنی تصاویر میں گھڑیوں اور ہاتھیوں کو منفرد انداز میں علامتی طور پر پینٹ کیا ہے۔ اس کا  علامتوں کے بارے میں کہنا تھا کہ ٴٴمیں ایسی تصاریر مصور کرنا چاہتا ہوں جسے دیکھ کر خوشی سے میں مر جائوں۔ میں ایسی چیزیں بنا رہا ہوں جنہوں نے مجھے متاثر کیا اور جو میرے جذبات کے ساتھ وابسطہ ہیں اور میں انہیں ایمانداری کے ساتھ کینوس پر ڈھالنا چاہتا ہوں۔ٴٴ اس کے علاوہ اس نے انڈے، چیونٹی اور کیڑے مکوڑوں کو بھی مختلف جذبات کی علامت کے طور پر بھی پیش کیا۔
 
سلواڈور ڈالی ایک ورسٹائل فنکار تھا۔ اس نے خود مصوری تک محدود نہیں رکھا۔ اس نے مجمہ سازی بھی کی اور اس کے ساتھ ساتھ تھیٹر ، فیشن اور فوٹوگرافی کے شعبہ میں بھی کارہائے نمایاں سرانجام دیئے۔ 1941ئ سے1970ئ کے درمیان اس نے متعدد زیورات کے ڈیزائن بھی تیار کئے جن میں سب سے معروف ٴدی رائل ہارٹٴ ہوا۔ جس میں اس نے 46 لعل،42ہیرے اور4یاقوتوں کا استعمال کیا۔ تھیٹر کے حوالے سے اس کا اہم کارنامہ 1927ئ میں تھیٹر ڈرامہ ٴمریانہ پنیڈاٴ کے لئے منظرنامہ کی تیاری تھا۔ اس کے علاوہ اس نے اوپرہ ٴتنہاشرٴ ، ٴلیبیرتھٴ اور ٴدی تھری کارنرڈ ہیٹٴ کے لئے بھی ڈیزائن تیار کئے۔ سلواڈور ڈالی کو فلموں میں بھی خاص دلچسپی تھی اور وہ نوجوانی میں ہر اتوار کو فلم دیکھنے ضرور جایا کرتا تھا۔ اس دور میں خاموش فلموں عوام کی توجہ کا مرکز تھیں۔ اس کا ماننا تھا کہ سینما کے حوالے سے دو نظریات پائیے جاتے ہیں ایک یہ کہ کیمرہ کی آنکھ کی مدد سے جو کچھ دکھایا جاتا ہے وہ اور دوسرا وہ انداز جو تصاویر اور منظر میں ہم دیکھتے ہیں جس میں ہمیں تخلیقی کام نظر آتا ہے۔ ڈالی فلموں میں کیمرے کے سامنے اور کیمرے کے پیچھے دونوں حوالوں سے اپنے فن کا اظہار کرتا تھا۔ اس نے معروف فلم میکر الفریڈ ہچکاک کے ساتھ بھی کام کیا۔ ہچکاک کی فلم ٴسپل بائونڈٴ کا مرکزی خیال خواب تھے۔ اس لئے اس نے سلواڈور ڈالی کی خدمات حاصل کی۔ اس نے ایسی تصاویر تیار کیں جو بالکل خواب کی سی کیفیت پیدا کر دیتی تھیں۔ اس کے علاوہ اس نے ڈزنی پروڈکشنز کے ساتھ کارٹون فلمیں بھی بنائیں۔


 
1980ئ کی دہائی میں سلواڈور ڈالی کی صحت بری طرح گرنا شروع ہو گئی اور دوسری جانب اس کی بیوی گالا پہلے ہی شدید بیمار تھی۔1982ئ میں گالا کی موت کے بعد سلواڈور ڈالی کے لئے زندگی کے کٹھن دن شروع ہو گئے۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس دوران اس نے خودکشی کی کوشش بھی کی۔ 1984ئ میں اس کے کمرے میں آگ بھڑک اٹھی جس میں اس موت واقع ہوگئی۔ بعض افراد نے اسے خودکشی بھی قرار دیا۔ لیکن دوستوں کی بروقت آمد سے ان کی جان بچالی گئی۔نومبر1988ئ میں اس کو دل کے عارضے کے باعث ہسپتال منتقل کردیا گیا ۔ لیکن دو ماہ بعد ہی یہ عظیم فنکار 23جنوری1989ئ کو اس جہان فانی سے کوچ کر گیا۔ لیکن اس کا فن آج بھی زندہ ہے اور آئندہ آنے والی نسلوں کو اس کی اہمیت کا احساس دلاتا رہے گا۔

 

Thursday, July 30, 2009

Nostalgia (part 2)


“What kind of question is this?” She gave me a weird look “I love him more than anything else, no matter in what condition he is, I love my son” saying that she picked up the cups and went inside. She wasn’t bothered by my question but she guessed by my gesture that I wasn’t listening to her. In fact I wasn’t present there. I was somewhere else.  

I remembered, ten years ago, it was a monsoon evening when I came to this city, with dreams of “bright future” in my eyes. It was raining cats and dogs when I had reached here and swept under the shelter of a shop. I compared that rainy weather with the present time. Two rainy evenings... Now I had everything I wanted. But still there was something missing in my life. I had a home, a good job, a lovely wife and a son. This seemed to be an ideal picture on the canvas of life. We always seek happiness in others; we never search for it inside our souls. For people around me, I was very happy but my soul was wretched, I was shattered. And I was trying to collect the pieces of my shattered soul at this moment. There was some void inside me.  

I recalled my childhood, my family, my past and my first meeting with my partner. I thought I never existed in this world. It was just like a vacuum. Everyone who met me added a piece and made my personality... I was almost complete But still one part was missing... the peace of mind and soul… (To be Continued)